ذرا رکیں اور سوچیں: اسی لمحے آپ کی جیب میں رکھا موبائل دنیا کے اربوں کمپیوٹروں سے جڑا ہوا ہے۔ ویڈیو، خبریں، بینک، خریداری — سب کچھ چند ٹیپ کے فاصلے پر۔ مگر یہ جادو اچانک ظاہر نہیں ہوا؛ اس کے پیچھے پچاس سال سے لمبا، حیرتوں بھرا سفر ہے۔ چلیے انٹرنیٹ کی کہانی شروع سے سنتے ہیں۔

1969: ARPANET کا آغاز

انٹرنیٹ کی بنیاد امریکی محکمہ دفاع کے ایک منصوبے ’ARPANET‘ سے پڑی۔ 29 اکتوبر 1969 کو پہلی بار دو کمپیوٹروں کے درمیان پیغام بھیجا گیا — بھیجنے والا لفظ تھا ’LOGIN‘، مگر نظام صرف ’LO‘ بھیج کر بیٹھ گیا! دنیا کی پہلی کوشش آدھوری رہی، مگر تاریخ رقم ہو چکی تھی۔ اس نیٹ ورک کا بنیادی خیال یہ تھا کہ اگر ایک راستہ بند ہو جائے تو پیغام دوسرے راستے سے منزل تک پہنچے — یعنی جنگ کی صورت میں بھی مواصلات قائم رہیں۔

پہلی ای میل اور @ کی علامت

1971 میں انجینئر رے ٹاملنسن نے نیٹ ورک پر پہلی ای میل بھیجی اور پتہ الگ کرنے کے لیے ’@‘ کی علامت چُنی — وہ علامت جو آج ہر ای میل پتے کا حصہ ہے۔ اسی کی دہائی میں ’TCP/IP‘ نامی مشترکہ زبان (پروٹوکول) اپنا لی گئی جس نے مختلف نیٹ ورکوں کو آپس میں جوڑنا ممکن بنایا؛ اسی لیے یکم جنوری 1983 کو انٹرنیٹ کا ’یومِ پیدائش‘ بھی کہا جاتا ہے۔

پہلی ویب سائٹ اور ورلڈ وائیڈ ویب

1989 میں برطانوی سائنسدان ٹِم برنرز لی نے ’ورلڈ وائیڈ ویب‘ ایجاد کیا اور 1991 میں دنیا کی پہلی ویب سائٹ آن لائن ہوئی — جس کا موضوع یہی تھا کہ ویب کیا ہے اور اسے کیسے استعمال کریں! قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ برنرز لی اور ان کے ادارے نے اس ٹیکنالوجی کو پیٹنٹ کر کے بیچنے کے بجائے انسانیت کے لیے مفت کر دیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو آج کی انٹرنیٹ دنیا بالکل مختلف ہوتی۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کی آمد

پاکستان میں انٹرنیٹ کی باقاعدہ آمد 1990 کی دہائی کے وسط میں ہوئی۔ شروع میں ڈائل اپ کنکشن ہوا کرتا تھا — وہ دور جب موڈم کی مخصوص آواز کے بعد انٹرنیٹ جڑتا اور گھر کا فون مصروف ہو جاتا! پھر 2000 کی دہائی میں براڈبینڈ آیا، 2014 میں 3G اور 4G موبائل انٹرنیٹ نے اصل انقلاب برپا کیا اور اسمارٹ فون ہر ہاتھ تک پہنچ گیا۔ آج پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے اور فری لانسنگ میں پاکستان دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

💡 کیا آپ جانتے ہیں؟

دنیا کی پہلی ویب سائٹ آج بھی آن لائن ہے! اور پہلی بار اپلوڈ کی جانے والی یوٹیوب ویڈیو 2005 میں چڑیا گھر کی ایک سادہ سی ویڈیو تھی — ’Me at the zoo‘ — جو صرف 19 سیکنڈ کی تھی۔ آج یوٹیوب پر ہر منٹ سینکڑوں گھنٹے کی ویڈیوز اپلوڈ ہوتی ہیں۔

آج کے حیران کن اعداد و شمار

دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ اب آن لائن ہے — صارفین کی تعداد ساڑھے پانچ ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہر منٹ لاکھوں ای میلز بھیجی جاتی ہیں، اربوں سرچز روزانہ ہوتی ہیں اور سمندروں کی تہہ میں بچھے فائبر آپٹک کیبلز — جن کی لمبائی لاکھوں کلومیٹر ہے — براعظموں کو ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ کی ٹریفک کا بڑا حصہ اب موبائل فونز سے آتا ہے، یعنی وہ کمپیوٹر جو کبھی پورے کمرے میں پھیلا ہوتا تھا آج آپ کی جیب میں ہے۔

مستقبل کی جھلک

آنے والا دور 5G، مصنوعی ذہانت اور ’انٹرنیٹ آف تھنگز‘ کا ہے — جہاں گھڑیاں، گاڑیاں، گھریلو آلات اور حتیٰ کہ فریج بھی انٹرنیٹ سے جڑے ہوں گے۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ دور دراز علاقوں تک تیز رفتار رابطہ پہنچا رہا ہے۔ ساتھ ہی پرائیویسی اور ڈیجیٹل تحفظ کے سوالات بھی اہم ہوتے جا رہے ہیں — اس لیے سمجھداری سے، محفوظ طریقے سے انٹرنیٹ استعمال کرنا ہر صارف کی ذمہ داری ہے۔

چار کمپیوٹروں سے اربوں آلات تک — یہ سفر انسان کی جستجو اور مل کر کام کرنے کی طاقت کا ثبوت ہے۔ آپ انٹرنیٹ سب سے زیادہ کس کام کے لیے استعمال کرتے ہیں؟ تبصرے میں بتائیں، اور یہ کہانی دوستوں سے بھی شیئر کریں!