رات کو آسمان کی طرف دیکھیں تو چمکتے ستارے بڑے پرسکون لگتے ہیں، مگر خلا کی اصل دنیا زمین کے ہر قانون سے الگ اور عقل کو دنگ کر دینے والی ہے۔ وہاں وقت کا پیمانہ بدل جاتا ہے، آواز غائب ہو جاتی ہے اور وزن کے تصورات الٹ پلٹ ہو جاتے ہیں۔ آئیے خلا کے آٹھ ایسے حقائق جانتے ہیں جو آپ کو واقعی حیران کر دیں گے۔
۱۔ زہرہ پر ایک دن، ایک سال سے لمبا!
سیارہ زہرہ (Venus) اپنے محور پر اتنی سست رفتاری سے گھومتا ہے کہ اس کا ایک دن اس کے ایک سال سے بھی لمبا ہے۔ زہرہ سورج کے گرد ایک چکر تقریباً 225 زمینی دنوں میں مکمل کرتا ہے، مگر اپنے محور پر ایک گردش میں اسے لگ بھگ 243 زمینی دن لگ جاتے ہیں۔ یعنی وہاں سورج طلوع ہو تو اگلی صبح دیکھنے کے لیے آپ کو زمین کے آٹھ مہینے انتظار کرنا پڑے گا!
۲۔ خلا میں کوئی آپ کی چیخ نہیں سن سکتا
آواز کو سفر کرنے کے لیے ہوا یا کسی اور واسطے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خلا تقریباً مکمل خلا (vacuum) ہے — وہاں ہوا کے ذرات موجود ہی نہیں، اس لیے بڑے سے بڑا دھماکا بھی پوری خاموشی سے گزر جائے گا۔ فلمی دھماکوں کی گونج محض ڈرامائی اثر ہے؛ حقیقت میں خلا سناٹے کی دنیا ہے۔
۳۔ چاند پر قدموں کے نشان لاکھوں سال تک
چاند پر نہ ہوا ہے نہ پانی، لہٰذا وہاں مٹانے والا کوئی عمل موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1969 میں اپولو خلابازوں کے چھوڑے ہوئے قدموں کے نشان آج بھی ویسے کے ویسے موجود ہیں اور اندازہ ہے کہ یہ لاکھوں سال تک باقی رہیں گے — شاید انسانی تاریخ کے زندہ ترین ثبوت!
۴۔ ایک چمچ، اربوں ٹن وزن
نیوٹرون ستارے مرتے ہوئے بڑے ستاروں کی باقیات ہوتے ہیں اور کائنات کی گھنی ترین چیزوں میں سے ایک ہیں۔ ان کا مادہ اس قدر سکڑا ہوا ہوتا ہے کہ ایک چائے کے چمچ بھر مقدار کا وزن اربوں ٹن تک ہو سکتا ہے — زمین کے بڑے بڑے پہاڑوں کے برابر! کششِ ثقل وہاں اس قدر شدید ہے کہ انسان وہاں پل بھر بھی کھڑا نہ رہ سکے۔
💡 کیا آپ جانتے ہیں؟
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) زمین کے گرد تقریباً 28 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتا ہے۔ وہاں موجود خلاباز ہر 24 گھنٹے میں 16 بار سورج طلوع اور 16 بار غروب ہوتے دیکھتے ہیں!
۵۔ قابلِ مشاہدہ کائنات کی حیران کن وسعت
جدید دوربینوں سے ہم جتنے حصے کا مشاہدہ کر سکتے ہیں اسے ’قابلِ مشاہدہ کائنات‘ کہتے ہیں، اور اس کا قطر تقریباً 93 ارب نوری سال ہے۔ اس میں اندازاً دو کھرب کہکشائیں ہیں اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے۔ صرف ہماری کہکشاں ’ملکی وے‘ میں ہی ستاروں کی تعداد زمین کے تمام ساحلوں کی ریت کے دانوں سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
۶۔ خلا میں آنسو نیچے نہیں گرتے
زمین پر آنسو کششِ ثقل کی وجہ سے گالوں پر بہتے ہیں، مگر خلا میں کششِ ثقل تقریباً صفر ہونے کی وجہ سے آنکھ سے نکلنے والا آنسو نیچے نہیں گرتا بلکہ آنکھ کے گرد ایک گول قطرے کی صورت جمع ہو جاتا ہے۔ خلابازوں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ زمین کے رونے سے بالکل مختلف اور کبھی کبھی آنکھوں میں جلن پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔
۷۔ خلا کی بو کیسی ہوتی ہے؟
خلابازوں نے بتایا ہے کہ خلا سے واپسی پر ان کے خلائی سوٹ سے ایک عجیب سی بو آتی ہے — جلی ہوئی دھات، ویلڈنگ کے دھوئیں اور بھنے ہوئے اسٹیک جیسی۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ بو مرتے ہوئے ستاروں سے خارج ہونے والے خاص مالیکیولز کی وجہ سے ہوتی ہے۔
۸۔ سورج میں دس لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں
ہمارا سورج اتنا بڑا ہے کہ اس کے اندر تقریباً 13 لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں۔ اور سورج بھی کائنات کے بڑے ستاروں کے سامنے ایک بونا ہے — کچھ ستارے اس سے سینکڑوں گنا بڑے ہیں۔ یہ وسعت سوچ کر انسان اپنی حیثیت اور اس کائنات کے خالق کی قدرت پر حیران رہ جاتا ہے۔
خلا ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم جتنا جانتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ جاننا باقی ہے۔ ہر نیا انکشاف ایک نئے سوال کا دروازہ کھولتا ہے۔ آپ کو ان حقائق میں سے سب سے حیران کن کون سا لگا؟ نیچے تبصرے میں ضرور بتائیں!