تصور کریں ایک شہر، آج سے ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا — جس کی گلیاں سیدھی اور کشادہ ہوں، ہر گھر میں کنواں اور غسل خانہ ہو، اور گندا پانی نکالنے کے لیے ڈھکی ہوئی نالیوں کا باقاعدہ نظام موجود ہو۔ یہ خیالی کہانی نہیں، یہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں واقع موہنجودڑو ہے — دنیا کی قدیم ترین اور ترقی یافتہ تہذیبوں میں سے ایک کا روشن باب، اور پاکستان کا فخر۔
وادی سندھ کی عظیم تہذیب
موہنجودڑو ’وادی سندھ کی تہذیب‘ کا سب سے بڑا شہر سمجھا جاتا ہے جو تقریباً 2600 قبل مسیح سے 1900 قبل مسیح تک اپنے عروج پر رہی۔ یہ تہذیب دریائے سندھ کے کناروں پر پھیلی ہوئی تھی اور اس کے آثار آج کے پاکستان اور شمال مغربی بھارت کے وسیع علاقے میں ملتے ہیں۔ اس دور میں جب مصر میں اہرام بن رہے تھے، یہاں کے لوگ منصوبہ بندی سے شہر بسا رہے تھے۔
شہر کی منصوبہ بندی — آج بھی مثال
موہنجودڑو کی سب سے حیران کن بات اس کی منصوبہ بندی ہے۔ شہر کی مرکزی سڑکیں شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب کی سمت میں بالکل سیدھی بنائی گئی تھیں، گویا کسی ماہر انجینئر نے نقشہ بنا کر شہر آباد کیا ہو۔ گھر پکی ہوئی اینٹوں سے بنے تھے — ایک ہی ناپ کی معیاری اینٹیں! ماہرین کے مطابق یہاں آبادی چالیس ہزار کے قریب تھی اور شہر کو اوپری (قلعہ نما) اور نچلے رہائشی حصے میں تقسیم کیا گیا تھا۔
نکاسی آب کا حیران کن نظام
شہر کا نکاسی آب کا نظام اس کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ تقریباً ہر گھر میں غسل خانہ تھا جس کا پانی اینٹوں سے بنی ڈھکی ہوئی نالیوں کے ذریعے مرکزی گٹر تک جاتا تھا۔ نالیوں کی صفائی کے لیے جگہ جگہ جالیدار سوراخ (مین ہول) بھی بنائے گئے تھے — وہ تصور جو جدید شہروں میں ہزاروں سال بعد آیا۔ گھروں میں تقریباً سات سو کنویں تھے، یعنی ہر تیسرے گھر کے پاس اپنا پانی کا ذریعہ موجود تھا۔
عظیم حمام (Great Bath)
شہر کے اہم ترین ڈھانچوں میں ’عظیم حمام‘ شامل ہے — ایک بڑا تالاب نما حمام جو پکی اینٹوں سے بنایا گیا تھا اور اسے اس طرح بند کیا گیا تھا کہ پانی باہر نہ رسے۔ اس کی لمبائی تقریباً 12 میٹر اور گہرائی اڑھائی میٹر کے قریب ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی مذہبی رسم یا اجتماعی پاکیزگی کے لیے استعمال ہوتا ہوگا۔ ڈھائی ہزار سال قبل مسیح میں پانی کو رسنے سے روکنے کی ایسی مہارت واقعی حیران کن ہے۔
💡 کیا آپ جانتے ہیں؟
موہنجودڑو کے کھنڈرات 1922 میں دریافت ہوئے۔ دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ اسی دور میں انگریز دور کی ریلوے لائن کے لیے اینٹیں درکار تھیں — اور یوں یہ عظیم شہر دنیا کے سامنے آیا۔ 1980 میں یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا؛ یہ جنوبی ایشیا کا پہلا مقام تھا جسے یہ اعزاز ملا۔
وہ رسم الخط جو آج تک پڑھی نہ جا سکی
موہنجودڑو کا سب سے بڑا راز اس کی تحریر ہے۔ یہاں سے ملنے والی مہروں اور تختیوں پر چار سو سے زائد علامات پائی جاتی ہیں، مگر دنیا بھر کی کوششوں کے باوجود یہ رسم الخط آج تک پڑھی نہیں جا سکی۔ وجہ یہ ہے کہ تحریریں بہت مختصر ہیں اور کوئی ایسی دو لسانی تختی نہیں ملی جو اسے کھولنے میں مدد دے۔ جس دن یہ پڑھ لی گئی، شاید اس تہذیب کے مذہب، حکمرانوں اور زندگی کے بارے میں سب کچھ سامنے آ جائے گا۔
شہر کے زوال کے نظریات
اتنا ترقی یافتہ شہر آخر خاموش کیوں ہو گیا؟ ماہرین کئی نظریات پیش کرتے ہیں: دریائے سندھ کے رخ بدلنے سے پانی کی قلت، بڑے سیلاب، موسمی تبدیلیاں، یا تجارت کے راستوں کا بدلنا۔ البتہ یہاں جنگ یا بڑے پیمانے پر تباہی کے واضح شواہد نہیں ملے — لگتا ہے لوگ رفتہ رفتہ شہر چھوڑ کر چلے گئے اور شہر مٹی کے ٹیلوں کے نیچے دب گیا۔ سندھی میں ’موہنجودڑو‘ کا مطلب بھی ’مردوں کا ٹیلہ‘ بیان کیا جاتا ہے۔
موہنجودڑو صرف کھنڈرات نہیں، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے کے لوگ ہزاروں سال پہلے بھی ذہین، منظم اور ترقی یافتہ تھے۔ یہ ہماری شناخت اور ہمارا فخر ہے۔ اگر موقع ملے تو لاڑکانہ کے قریب اس عظیم ورثے کی زیارت ضرور کریں — ماضی آپ کے سامنے زندہ ہو جائے گا۔