’بس تھوڑی دیر اور موبائل دیکھ لوں‘ — یہ جملہ کہہ کر کتنے ہی لوگ رات کے دو بجا دیتے ہیں۔ پھر صبح بھاری آنکھوں، چڑچڑے مزاج اور ادھوری توجہ کے ساتھ دن شروع ہوتا ہے۔ ہم نیند کو اکثر عیاشی سمجھ کر قربان کر دیتے ہیں، حالانکہ سائنس کی نظر میں نیند کھانے پینے کی طرح زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ آپ کے سوتے ہی دراصل کیا ہوتا ہے۔

سات سے نو گھنٹے کیوں ضروری ہیں؟

طبی ماہرین بالغ افراد کے لیے روزانہ سات سے نو گھنٹے کی نیند تجویز کرتے ہیں۔ نیند مختلف مراحل سے گزرتی ہے — ہلکی نیند، گہری نیند اور خوابوں والی نیند (REM)۔ ہر مرحلے کا اپنا کام ہے: گہری نیند میں جسم مرمت کرتا ہے اور خوابوں والی نیند میں دماغ دن بھر کی معلومات کو ترتیب دیتا ہے۔ یہ پورا چکر تقریباً 90 منٹ کا ہوتا ہے اور رات میں کئی بار دہرایا جاتا ہے۔

نیند میں یادداشت اور جسم کی مرمت

دن میں جو کچھ آپ سیکھتے ہیں، رات کو سوتے ہوئے دماغ اسے مختصر مدت کی یادداشت سے طویل مدت کی یادداشت میں منتقل کرتا ہے۔ اسی لیے طلبہ کو امتحان سے پہلے پوری نیند کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف گہری نیند میں جسم گروتھ ہارمون خارج کرتا ہے جو پٹھوں اور بافتوں کی مرمت کرتا ہے، اور مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ جو لوگ مستقل کم سوتے ہیں وہ نزلہ زکام جیسی بیماریوں کا بھی زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

نیند کی کمی کے نقصانات

ایک رات کی خراب نیند ہی توجہ اور فیصلہ سازی کو متاثر کر دیتی ہے؛ طویل عرصے کی کمی کے اثرات سنجیدہ ہو سکتے ہیں — موڈ کی خرابی، ذہنی دباؤ، وزن میں اضافہ (کیونکہ بھوک کے ہارمونز بگڑ جاتے ہیں)، بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے بڑھتے خطرات۔ نیند سے محروم ڈرائیور سڑک پر اتنا ہی خطرناک ہو سکتا ہے جتنا تھکا ہوا یا غافل ڈرائیور؛ تھکن کے باعث ہونے والے حادثات ہر سال ہزاروں جانیں لیتے ہیں۔

💡 کیا آپ جانتے ہیں؟

انسان اپنی زندگی کا اوسطاً 26 سال سوتے ہوئے گزارتا ہے! اور مسلسل جاگنے کا عالمی ریکارڈ 11 دن سے زیادہ کا ہے — مگر ماہرین اسے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہیں اور اس کی کوشش کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔

موبائل: نیند کا خاموش دشمن

سونے سے پہلے موبائل دیکھنا نیند خراب کرنے کی بڑی وجہ ہے۔ اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی دماغ کو دن کا سگنل دیتی ہے اور نیند لانے والے ہارمون ’میلاٹونن‘ کی پیداوار دبا دیتی ہے۔ اس پر سوشل میڈیا کی تازہ خبریں اور ویڈیوز ذہن کو مزید جگا دیتی ہیں۔ نتیجہ: بستر پر لیٹے نیند کا انتظار، اور صبح وہی تھکن۔

بہتر نیند کے عملی طریقے

  • روزانہ ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت بنائیں — چھٹی کے دن بھی۔
  • سونے سے ایک گھنٹہ پہلے موبائل اور ٹی وی کو الوداع کہیں؛ اس کی جگہ کتاب پڑھیں۔
  • کمرہ اندھیرا، خاموش اور نسبتاً ٹھنڈا رکھیں۔
  • شام کے بعد چائے اور کافی سے پرہیز کریں؛ کیفین کا اثر گھنٹوں رہتا ہے۔
  • دن میں ہلکی ورزش کریں، مگر سونے سے بالکل پہلے سخت ورزش نہ کریں۔
  • رات کا کھانا ہلکا اور وقت پر کھائیں۔
نوٹ: یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔ اگر آپ کو دیرینہ بے خوابی، خراٹوں کے ساتھ سانس رکنے یا دن میں شدید غنودگی کا مسئلہ ہو تو معالج سے رجوع کریں۔

یاد رکھیں، نیند وقت کا ضیاع نہیں — یہ بدن کی روزانہ کی ’سروسنگ‘ ہے۔ آج رات موبائل ذرا جلدی رکھ کر تجربہ کریں؛ اگلی صبح آپ کا جسم خود شکریہ کہے گا!