قرآن مجید بنیادی طور پر ہدایت کی کتاب ہے، سائنس کی درسی کتاب نہیں۔ لیکن اس کی آیات میں کائنات، انسان اور قدرت کے بارے میں ایسے اشارے ملتے ہیں جنہیں پڑھ کر ہر دور کے اہلِ علم نے غور و فکر کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ دو صدیوں میں سائنس نے جن حقائق کو دریافت کیا، ان میں سے کئی کا ذکر قرآن میں صدیوں پہلے سے موجود تھا۔ آج ہم ان میں سے چند کا تذکرہ سنجیدگی، توازن اور احترام کے ساتھ کریں گے — نہ مبالغہ، نہ سنسنی۔

جنین کے مراحل کا بیان

قرآن مجید میں انسان کی تخلیق کے مراحل کا ذکر بڑی وضاحت سے ملتا ہے۔ سورۃ المؤمنون میں ارشاد ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر نطفے کو ’علقہ‘ (جمی ہوئی، چمٹی ہوئی چیز) بنایا، پھر اسے ’مضغہ‘ (چبائی ہوئی چیز جیسی ساخت) بنایا، پھر ہڈیاں بنائیں اور ان پر گوشت چڑھایا۔ جدید علمِ جنین (Embryology) کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما واقعی انہی سے ملتے جلتے مراحل سے گزرتی ہے — یہ مشاہدہ مائیکرو اسکوپ کے بغیر ممکن نہیں تھا، اور یہ آلات سترھویں صدی کے بعد ایجاد ہوئے۔

کائنات کے پھیلاؤ کا ذکر

سورۃ الذاریات میں ارشاد ہے: ’’اور آسمان کو ہم نے قدرت سے بنایا اور بے شک ہم اسے وسعت دینے والے ہیں‘‘ (51:47)۔ بیسویں صدی میں ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے دوربین سے مشاہدہ کر کے بتایا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں، یعنی کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ یہ جدید سائنسی دریافت ان آیات کی یاد دلاتی ہے جن میں آسمان کی وسعت کا ذکر موجود تھا۔

پانی کا چکر (Water Cycle)

آج ہر طالب علم جانتا ہے کہ سمندروں کا پانی بخارات بن کر اٹھتا ہے، بادل بنتا ہے اور بارش بن کر برستا ہے۔ قرآن میں اس پورے چکر کی طرف جگہ جگہ اشارے ہیں — ہواؤں کا بادلوں کو اٹھانا، پھر پانی کا زمین پر برسنا اور مردہ زمین کا زندہ ہونا۔ سورۃ النور اور سورۃ الروم کی آیات میں بادلوں کے جمع ہونے اور بارش کے نظام کا ذکر اس دور میں موجود تھا جب انسان کے پاس اس کی کوئی تکنیکی وضاحت نہیں تھی۔

پہاڑوں کو میخوں سے تشبیہ

سورۃ النباء میں پہاڑوں کو ’اوتاد‘ یعنی میخیں کہا گیا ہے۔ جدید ارضیاتی سائنس بتاتی ہے کہ پہاڑوں کا بڑا حصہ زمین کے اندر جڑوں کی صورت میں ہوتا ہے — بالکل میخ کی طرح، جس کا تھوڑا سا حصہ اوپر اور بڑا حصہ اندر دھنسا ہوتا ہے۔ یہ جڑیں زمین کی تہوں کو استحکام بھی دیتی ہیں۔ میخ کی یہ تشبیہ سادہ بھی ہے اور سائنسی مشاہدے سے حیران کن طور پر ہم آہنگ بھی۔

💡 کیا آپ جانتے ہیں؟

سورۃ الانبیاء میں ارشاد ہے کہ آسمان اور زمین پہلے ایک اکائی تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا، اور ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ جدید کائناتی سائنس بھی کائنات کے ایک نقطے سے آغاز (بگ بینگ) کی بات کرتی ہے، اور حیاتیات یہ تسلیم کرتی ہے کہ زندگی کا آغاز اور بقا پانی ہی سے وابستہ ہے۔

سمندروں کے درمیان پردہ

سورۃ الرحمٰن میں دو سمندروں کے ملنے اور ان کے درمیان ایک پردے (برزخ) کا ذکر آتا ہے جسے وہ پار نہیں کرتے۔ جدید سمندری سائنس نے دریافت کیا ہے کہ جہاں دو مختلف سمندر ملتے ہیں، وہاں پانی کی کثافت، درجہ حرارت اور نمکیات کے فرق کی وجہ سے ایک قدرتی حد برقرار رہتی ہے اور پانی فوراً آپس میں یکسر گھل مل نہیں جاتے — یہ منظر مصنوعی سیاروں کی تصاویر میں بھی دیکھا جا چکا ہے۔

صحیح رویہ: تدبر، نہ کہ جذباتیت

علمائے کرام کی رہنمائی یہ ہے کہ قرآن کا اصل مقصد انسان کی ہدایت ہے، اور سائنسی اشارے اس عظیم کتاب کی عظمت پر غور کرنے کا ذریعہ ہیں۔ سائنس بدلتی رہتی ہے؛ کل کی رائے آج جدید شکل اختیار کر سکتی ہے، مگر قرآن کا پیغام ابدی ہے۔ اس لیے ان ہم آہنگیوں کو ایمان میں اضافے اور کائنات میں تدبر کی دعوت سمجھنا چاہیے — یہی قرآن کا اپنا اسلوب ہے کہ ’غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں‘۔

آخر میں بس اتنا کہیے کہ کائنات کی ہر نئی دریافت اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک اور گواہی ہے۔ سائنس ہمیں ’کیسے‘ بتاتی ہے اور قرآن ہمیں ’کس نے‘ اور ’کیوں‘ کی طرف لے جاتا ہے — دونوں مل کر انسان کو حیرت اور شکرگزاری کا حسین احساس دیتے ہیں۔